**بے بے بھلکڑ **
         
آج ہم نے فیصلہ کر ہی لیا اس موضوع پر کچھ لکھ ڈالنے کا ۔۔ دراصل زیادہ تر دیکھنے میں تو یہ بات آتی ہے کہ بھولنے کی بیماری صرف اور صرف بڑے بوڑھوں کو ہوا کرتی ہے یا پھر انہیں جو الزائمر (Alzheimer  ) کا شکار  ہوں ۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ الزائمر کیڑی بلا اے ؟  پہلے تو میڈیکل ایک بلا ہے اور اسکی پیدا کردہ بہت سی بیماریوں میں سے  ایک بیماری کا نام الزائمر ہونا قرار پایا کیونکہ جس عظیم شخص نے اس بیماری کو دریافت کیا وہ الزائمر کہلائے جاتے تھے ۔۔۔۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ جن عظیم لوگوں نے الزائمر جیسی بیماریاں دریافت کیں وہ خود بھی ان کا شکار رہے ہوں گے اس لیے وہ ان کو نام دے کر ہم سب کو یہ جتلوانا چاہتے ہیں ۔۔۔

ہم اکیلے ہی چلے تھے جانب الزائمر
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مگر وہ تو برا ہو فوڈلز کا جس نے ہماری خوش فہمی کو غلط فہمی میں بدل کر ہمیں ہماری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔ کہنے لگی ؛
بات دراصل یہ ہے کہ اگر کبھی تڑ تڑ زبان چلانے کے علاوہ تھوڑا علم حاصل کر لیا ہوتا اور  دماغ میں ایک ایسا فلٹر نصب کر لیا ہوتا جو تمام تر معلومات کو صاف کر کے دماغ کے اندر محفوظ کر دیتا تو آج یہ نوبت نہ آتی ۔۔۔ ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کہ فوڈلز کو اتنی گہری باتوں کا علم کیسے ہوا ۔۔ آپ یہ سوچ رہیں ہوں گے کہ ہم اسکے علم کی بات کر رہے ہیں تو آپ سراسر غلط ہیں ۔۔ ہم تو یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ ہمیں بولنے کہ سوا کچھ نہیں آتا ۔۔۔!
جہاں تک علم کا تعلق ہے تو وہ اپنے نام نہاد دوست گامی سے ایسی فضول مگر تھوڑے کام کی باتیں لے کر آتی ہے ۔۔ اور ہم پر اپنا رعب جھاڑنے کی بے کا ر کوشش کرتی ہے۔۔ خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی یا پہنچا دی گئی کیوں کہ ہمیں آج ہی یہ بات بھی پتا چلی ہے کہ یہ جو لکھاری ہوتے ہیں نا بڑے چالاک قسم کے ماہر ہوتے ہیں ۔۔ چھوٹی سی بات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ اگلا بندہ یا بندی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔۔۔
واہ واہ کیا کہنے ۔۔ !! علم و عقل نے مل کر کیا سے کیا لکھ ڈالا ۔۔۔۔
اچھا تو یہ بیماری ایسی ہے جس میں یادداشت جلد اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ۔۔ مطلب کہ عمر سے پہلے ہی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔

اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ  ہماری عمر تو  بڑے بوڑھوں والی نہ تھی اور اس کا ہمیں اس وقت ثبوت ملا جب ہم نے ایک عدد ب-فارم کو کھول کر باقاعدہ جائزہ لیا کہ کہیں غلطی سے آج تک ہم 1799 کو 1999 نہ پڑھتے آئیں ہوں مگر ہماری یہ خوش فہمی بھی غلط فہمی میں بدل گئی ۔۔۔۔

وائے خوش فہمی کہ پرواز یقین  سے بھی گئے
بڑھاپا چھونے کی خواہش میں جوانی سے بھی گئے

بہرحال اب ایک راستہ بچا تھا اور وہ تھا کہ الزائمر کو خود پر لاگو  کرنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ الزائمر نے اپنا نام ہی الزائمر رکھ دیا تھا ۔۔۔ مگر یہ راستہ بھی ناکامی کا باعث بنا ۔۔۔
ہم نے بہت کوشش کی کہ خود کو بوڑھا یا الزائمر شدہ ثابت کر کے فوڈلز کی بے کار باتوں سے بچا جائے اور گامی کے فلسفوں سے خود کو دور رکھا جائے مگر ہمیں یہ ممکن ہوتا نظر نہ آرہا تھا ۔۔۔  بات دراصل اس وقت شروع ہوئی جب ہم فوڈلز کے دوست گامی کی بہن سڑیل بی بی کے گھر فوڈلز کی وجہ سے گئے اور گھر والوں کو بتانا یاد نہ رہا ۔۔۔ پہلی مرتبہ نظرانداز کیا گیا ۔۔۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ ہم اپنا پسندیدہ لباس جو لباس کے اوپر زیب تن کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں برقع یا گاون کہا جاتا ہے کہیں رکھ کر بھول گئے اور واپسی پر فوڈلز کا گاون پہن کر تشریف لائے ۔۔۔
ایسے ہی کئی مرتبہ ہم اپنے پیسے اکثر بھول جاتے ہیں اور جب ہم کو بتایا جاتا ہے کہ یہ پیسے یہاں سے ملے اور اب چھوٹے بھائی کو عنایت کیے جا چکے ہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ :
ان چیزوں میں کیا رکھا ہے ۔۔ اگر رکھ کر بھول بھی گئی تو کیا ہوگا ۔۔ کوئی اٹھا لے گا تو اس کا فائدہ ہو جاوے گا ۔۔  ہاں مگر اپنے اخلاق  اور کردار کی حفاظت ضرور کرنی چاہیے ۔۔۔ یی کہنے کے بعد بس ایک زوردار تھپڑ رسید ہونے کی گنجائش رہ جاتی ہے ۔۔۔  باقی باتوں سے ہمارے نازک سے دل کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا جاتا ہے ۔۔
یہ بھی اکثر اوقات ہوتا رہا ہے کہ  اپنا پاوچ جو کہ ہمارا بھی پسندیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں کئی قسم کے مواد دیکھنے کو ملتے ہیں ۔۔
مثلا اس دن اس ٹائم پر فلاں انسان کو کلاس سے نکالا گیا ۔۔ اور اسکا جرم کیا تھا ۔۔۔ ایسے ہی کچھ پرچیاں ہوا کرتی ہیں جن میں  ہر استاد کے بارے میں درج ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیں پڑھانا کس تاریخ سے شروع  کیا ۔۔ تو جب اس پاوچ کو ہم بھول جاتے ہیں کہیں تو دکھ کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے ۔۔ اور پھر فوڈلز کہتی ہے کہ میں نے کہا تھا نا :
*اپنا وقت بھی آئے گا ***
 اور ہم تھوڑے بہت دانت  پیسنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔ مگر یہاں ایک قابل ذکر بات کرتے چلیں کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں بلکہ ہم بھی یہی سمجھتے تھے ۔۔ وہ تو فوڈلز کا بھلا ہو کہ اس نے بتایا یہ دعا اس وقت بھی پڑھا کرتے ہیں جب کوئی چیز گم ہوتی ہے نا کہ صرف اموات کے مواقع پر :
۔۔۔۔*انا للہ وانا الیہ راجعون* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ بھلا کرے فوڈلز کا ۔۔۔!!

ویسے تو ہمیں یہ لقب ملا جا چکا تھا *بے بے بھلکڑ* اور ہم اپنی ساری امیدوں پر پانی پھیر چکے تھے  کہ *اب کوئی امید بر نہیں آتی * مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن ہم  فوڈلز کے گھر تشریف لے گئے اور فوڈلز نے ہمارے سامنے دودھ ابالنے کے لیے چولہے پر رکھا اور ہمیں باہر لے آئی ۔۔ بے چاری کی نظر مسلسل باورچی خانے کی طرف تھی مگر ہوا یہ کہ تھوڑی دیر بعد وہ باتوں میں مشغول ہوگئی اور جب اتنی لذیذ مہک آئی تو اسکی چیخیں نکل گئیں اور وہ باورچی خانے کی طرف دوڑی مگر اب اسے ڈانٹ کھانے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔۔۔
ہائے ہائے !!! مزے مزے !!
اب ہمیں دودھ پر ہی ترس آنے لگا تھا اور یہ شعر کہنے پر مجبور ہوئے ؛

تجھے بھول جانا تو ممکن نہیں
مگر بھول جانے کو جی چاہتا ہے

تب ہمیں پتا چلا کہ یہ پاکستان کی قومی بیٹیوں کا قومی مسئلہ ہے اور ہم نے مان لیا ہم *بے بے بھلکڑ* ہیں تو باقی لوگ بھی*بی بی بھلکڑ* سے کم نہ ہیں ۔۔۔ !!!

والسلام!!

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ادھار بند ہے تو جناب!انتظار بھی بند ہے!