ن سے نالائق
اپنے اساتذہ میں سے ایک ہر دل عزیز ، نہایت محترم استاد کی خوبیوں پر کچھ قلم بند کرنے کی ادنی دی کاوش! ن سے نالائق ہمارے ایک استاد صاحب ہوا کرتے تھے ، تھے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ بادل نخواستہ وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں، دراصل بات یہ ہے کہ ہم اس معتبر اور عظیم الشان مقام جہاں وہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیا کرتے تھے وہاں سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں ۔۔ ہم تو اس قدر گئے گزرے ثابت ہوئے تھے کہ استاد صاحب کی حس مزاح کو نہ پہچان سکے اور لا علمی میں ہی مارے گئے ، مراد یہ ہے کہ کبھی ان سے بحث و مباحثہ کرنے کا شرف ہی حاصل نہ ہو سکا ۔ نہ ہی اپنے لاابالی پن اور مزاح کی عادت کو ان کے سامنے واضح کر سکے۔ مگر کہتے ہیں نا : *اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت * ۔ اور ہم اس وقت کو شدت سے یاد کرتے ہیں جب ہم ان کے زیر سایہ مطالعہ پاکستان جیسی عقل سے ماورا کتاب کو بھی لطف سے پڑھا کرتے تھے اور آہستہ آہستہ ہمیں اس کتاب سے انسیت ہونے لگی ، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک کا ہمارا پسندیدہ مضمون مطالعہ پاکستان تھا ، وہ تو خدا کا کرنا ہوا کہ ہم ایسے کالج میں داخلے کے حقدار قرار پائے جہ...