ن سے نالائق


اپنے اساتذہ میں سے ایک ہر دل عزیز ، نہایت محترم استاد کی خوبیوں پر کچھ قلم بند کرنے کی ادنی دی کاوش!


ن سے نالائق


ہمارے ایک استاد صاحب ہوا کرتے تھے ، تھے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ بادل نخواستہ وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں، دراصل بات یہ ہے کہ ہم اس معتبر اور عظیم الشان مقام جہاں وہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیا کرتے تھے وہاں سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں ۔۔ ہم تو اس قدر گئے گزرے ثابت ہوئے تھے کہ استاد صاحب کی حس مزاح کو نہ پہچان سکے اور لا علمی میں ہی مارے گئے ، مراد یہ ہے کہ کبھی ان سے بحث و مباحثہ کرنے کا شرف ہی حاصل نہ ہو سکا ۔ نہ ہی اپنے لاابالی پن اور مزاح کی عادت کو ان کے سامنے واضح کر سکے۔
مگر کہتے ہیں نا :
*اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت *

۔ اور ہم اس وقت کو شدت سے یاد کرتے ہیں جب ہم ان کے زیر سایہ مطالعہ پاکستان جیسی عقل سے ماورا کتاب کو بھی لطف سے پڑھا کرتے تھے اور آہستہ آہستہ ہمیں اس کتاب سے انسیت ہونے لگی ، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک کا ہمارا پسندیدہ مضمون مطالعہ پاکستان تھا ، وہ تو خدا کا کرنا ہوا کہ ہم ایسے کالج میں داخلے کے حقدار قرار پائے جہاں سے جب انسان نکلتا ہے تو مدہوشی کے عالم میں سیدھا ہسپتال پہنچ جاتا ہے ، مریضوں کے علاج کے لیے ! گمان یہ کیا جاتا ہے کہ ڈاکتر صاحب 5 سال محض میڈیکل کی کتابیں چاٹ کر بے حد مشکلات پار کر کے زندہ رہنے کے قابل رہے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہ ہووے ہے ، ہم جیسے زندہ دل لوگ جب تک زندہ ہیں ، میڈیکل کی کتابوں کی تلخی کو ختم کرنے کے لیے مزاح دوا کا کام کرتا ہے !
بہرحال اب کچھ استاد صاحب کی حس مزاح پر بات کرتے ہیں، پہلے پہل ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو ہم سے پوچھا گیا ،* نالائق* کیا حال ہے؟ ہم حیران و پریشان کہ پہلی ہی ملاقات میں ہمیں اس قدر اعزاز سے نوازا گیا تو آگے نالائقی کا عملی نمونہ دیکھ کر تو استاد صاحب نے ہمیں ہماری* نانی یاد دلا دینی* ہے ۔۔ کچھ دیر تو ہم اپنی جگہ ساکت ہوگئے کہ استاد صاحب کو معلوم کیسے ہوا کہ ہم نالائق ہیں اور حیرت کے سمندر میں غرق ہوئے مستقبل کے القابات کو ذہن میں لانے لگے ، مگر اس وقت ہم نے اپنے ہوش و حواس پر قابو پایا جب ہماری گوشہ جگر ، ہماری جان کو بھی کہا گیا کہ* نالائق* ! کدھر گھوم رہی ہو ؟ اس کے بعد ہم اپنی ہنسی پر قابو نہ پا سکے ، گویا استاد صاحب ہر کسی کو ہی اس نہایت نازک لقب سے نوازتے ہیں!

یہ لوگ جو نالائقی کی بات کرتے ہیں
سوچتے ہوں گے عقل سے آگے

نالائق کا مطلب جہاں تک ہم سمجھ پائے ہیں وہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہیں گے ، جو نکما ہو ؛ کچھ کرنے کے قابل تو ہو مگر کرنا نہ چاہتا ہو ، سست اور کاہل ہو ؛ ہر وقت سویا رہتا ہو ، بےوقوف ہو ؛ ہر ایک کی بات میں آجاتا ہو ۔ نالائق کا مطلب سمجھا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ لقب ہمارے لیے بڑا ہی مناسب ہووے ہے جناب ! ہم میں یہ صفات بدرجہء اتم موجود ہیں ۔ بےوقوف تو ہم ہیں ہی، جب ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم موٹی ہو تو ہم ایسے پریشان ہوتے ہیں جیسے ہمارے لیے قبر کھودی جارہی ہو اور فرشتے ہماری روح بس قبض ہی کرنا چاہ رہے ہوں ۔ مگر دو منٹ بعد ہم سے کوئی کہے کہ تم دن بدن کانٹا بنتی جارہی ہو ، کھایا کرو تو ہم ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے ہمیں دنیا جہاں کی دولت سے نواز دیا گیا ہو ۔ !
استاد صاحب کی ذرہ نوازی پر تو ہم فدا تھے ، وہ روزانہ یا اکثر ٹافیاں دیا کرتے تھے، کہا کرتے تھے نالائق کل کا پڑھایا ہوا یاد کر کے سناو اور اپنا انعام حاصل کرو ۔ خود بھی بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے ، اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ بڑھاپے میں دانت خراب ہوئے تو ہم جیسے نالائقوں کے پاس ہی آنا پڑے گا تب بھی ہم نالائق کے نالائق ہی ہوں گے، استاد صاحب کے آگے ہماری کیا مجال! اس لیے ہمارے پاس آنے سے بچنے کےلیے ٹافیاں کھانے میں احتیاط برتیں تو بہتر ہووے ہے آپ کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی ! ہم بھی ٹھرے ان کے پیروکار ، مگر ہم وزن بڑھنے کے ڈر سے خود تو نوش کم ہی کرتے ہیں مگر دوسروں کے دانت خراب کرنے سے باز نہیں آتے! ہم اس پر ان کے شکرگزار ہیں کہ ہمیں تمدن ( مل کے رہنے کا طریقہ) سکھایا ۔ ٹافی ہوتی تو 1 یا 2 روپے کی ہے مگر دل سے دی گئی شے کا اج تلک کوئی مول نہ ہووے ہے !
میٹھی ٹافی کھانے سے تلخ مزاج میں نرمی پیدا ہوتی ہے، قینچی کی طرح زبان چلانے والوں کئ زبان کو کچھ دیر کے لیے تالا لگائے جانے کا نہایت اہم حربہ ٹافی کھلانا ہے!
بہرحال! نالائق تو ہم ساری عمر رہیں گے مگر استاد صاحب کے پکارنے کا انداز کبھی نہ بھول پائیں گے !!

ان کہی یادیں جو دل پر نقش ہیں ان کا کوئی مول نہیں، یادیں تو ہوتی ہیں کبھی نہ بھلانے والی، ہمیشہ یاد رکھی جانے والی !

دعا ہے کہ آپ ہمیشہ سلامت رہیں!

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ادھار بند ہے تو جناب!انتظار بھی بند ہے!