**ٹکٹ گھر **



کئی موضوعات پر کئی لوگ قلم کشائی کرتے ہیں ایسے ہی کچھ موضوع جن کو بیان کرنے کی خاص ضرورت نہیں محسوس ہوتی ہم اس پر وقت صرف کرتے ہیں اور آج بھی آپکی خدمت میں کچھ حاضر کیے جاتے ہیں امید ہے اس کو پڑھ کر ہی آپ ٹکٹ خرید لیں (اگر کبھی بیچنے کی ضرورت دوبارہ محسوس ہوئی تو)
ٹکٹ کی کئی اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں ۔۔
ایک تو وہ ہوتی ہے جو* ڈاک* پر لگائی جاتی ہے اور ہمیں بہت ہی پسند ہے ۔۔۔ اس ٹکٹ کو دیکھتے ہوئے باوا آدم کا دور یاد آجاتا ہے ۔۔
سینما گھر جانے کے لیے بھی ہم نے سن رکھا ہے کہ ٹکٹ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔۔ سن اس لیے رکھا ہے کیونکہ اج تک ہم نے سینما کو اپنا دیدار نہیں کرایا ۔۔
ایسے ہی *مشہور و معروف ٹکٹ* ٹرین کی ہوتی ہے جو کہ ہر چھوٹے وڈے آدمی کی زندگی کو خوشحال بنانے میں کردار ادا کرتی ہے ۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نقل و حرکت کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے
ابھی تک ہم ٹکٹوں کی انہی اقسام سے واقف تھے اور دوسروں سے ہی ٹکٹ خریدا کرتے تھے ۔۔
پھر ہوا یوں کہ نشتر پہنچ کر فوڈلز اور گامی جیسے عظیم لوگوں سے ملاقات ہونے کا شرف حاصل ہوا جس کے نتیجے میں ہمیں ہی ٹکٹ بیچنے والا بنا دیا گیا ۔۔۔


مگر نا چاہتے ہوئے بھی یہ کہیں گے کہ ٹکٹ بیچ کر آپ *کروڑ پتی *نہ بن سکیں تو یقین کیجیئے* ہزار پتی* ضرور بن جائیں گے اور ساتھ میں آپ کو مفت میں اپنے گاہکوں کو نبٹانے کا طریقہ بھی آجائے گا اور یہ بھی پتا چلے گا کہ محنت سے کمائے ہوئے پیسے انسان کو کس قدر عزیز ہوتے ہیں ۔۔ بس یہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی آپ کو اس بات کا شدت سے احساس ہوگا کہ ایک ٹکٹ بیچ کر آپ نے اپنا آدھا کلو وزن کم کر لیا ہے ۔۔۔ اس لیے جن کی حالت نازک ہوتی ہے ان کو ہم مفت مشورہ دیں گے کہ ٹکٹ خریدیں ضرور مگر بیچنے کی غلطی ہر گز نا کیجیئے گا کہیں آپ آنکھوں سے ہی اوجھل نہ ہو جائیں ۔۔

آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہت
بڑھ چلی ہے حد سے کمزوری کچھ اسے کم کیجیئے

فن فیئر جسے عام زبان میں میلہ کہا جاتا ہے اس سے پہلے ٹکٹ کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔۔۔ نشتر کی روایت ہے کہ کچھ لوگ مل کر ایک آدھا سٹال لگاتے ہیں تو ہمارے انجمن نمائندان نے دو سٹال لگا نے کا فیصلہ کیا
ایک نے ملکہ وکتوریہ بننے کا فیصلہ کیا
دوسرے نے کاوو گرل
ہم نے ملکہ وکتوریہ میں شمولیت اختیار کی ۔۔
پسند تو ہماری کاوو گرل تھی تھوڑا ایکشن، تھرل مگر قسمت سے ہم ملکہ وکتوریہ میں شامل ہوگئے کیونکہ مس فوڈلز کے بقول ہماری قسمت انہی کے ساتھ لکھی گئی ہے ۔۔ جہاں وہ وہاں ہم ۔۔۔!!

گامی نے ٹکٹوں کو چھاپ کر اپنی بنائی ہوئی جیل میں بند کر دیا اور کسی کو خبر نہ ہونے دی ۔۔ ہمیں فوڈلز کے ذریعے معلوم ہوا کہ ٹکٹوں کا بھی کوئی چکر ہے تو ہم نے سوچا کیوں نا یہ آزمایا جائے بس پھر کیا ہم ٹکٹوں کو اپنے ہاتھوں میں سجائے گامی اور فوڈلز کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے ۔۔ بارش کا موسم تھا ، آندھی اور طوفان بھی ہمارے ساتھ تھا ۔۔ ہمیں تو یہ موسم بہت اچھا لگتا ہے ہمارے تو مزے ہو گئے ۔ مگر گامی اور مس فوڈلز کے چہرے پر 12 تو نہیں بجے مگر 11 ضرور بج گئے تھے یہ سن کر کہ آندھی اچھی ہوتی ہے ۔۔۔
دکان ہو کسی چیز کی تو گاہک خود چل کر آتے ہیں مگر یہاں معاملہ الٹ تھا ہمیں گاہکوں کے پاس جا کر انہیں قائل بھی کرنا تھا کہ ہم معصوم سے بچے ہیں کچھ عنایت کر دیں ۔۔۔ اچھا تو چلیے آپ کی ملاقات انوکھے گاہک سے کرواتے ہیں ۔۔
مس فوڈلز اور ہم ایک خوبصورت سی خاتون کو دیکھ کر ان کے پاس پہنچے کہ خوبصورت ہیں تو تعریف سے کام چل جائے گا ۔۔ سلام دعا کے ہم نے ایک شعر عرض کیا :

اتنی ملتی ہے مس وکتوریہ سے صورت تیری
لوگ تجھ کو ملکہ عالم سمجھتے ہوں گے

اب مس فوڈلز نے کچھ یوں تقریر کی ؛
دراصل ہمارا تعلق نشتر کی سب سے چھوٹی کلاس سے ہے ۔۔ ہم معصوم ہیں بہت اس لیے ROYAL TICKET بنائی ہے اور آپ کو دینے کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔۔ جیسے ہی آپ یہ ٹکٹ خریدیں گی آپ کے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی ۔۔سٹال پر آپکو رائل ڈرنک مفت دیا جائے گا اور جو بھی لوازمات ہوں گے ان پر 100 میں سے 50 فیصد ڈسکاونٹ دی جاوے گی ۔۔۔ اس تقریر کا ان خوبصورت خاتون پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا کیونکہ وہ یہ سب کچھ پچھلے کئی سالوں سے دیکھتے آئی تھیں ۔۔ وہ کچھ یوں گویا ہوئیں:
یہ GREEN GARDENS اور لارے ہم پر نہ آزماو ۔۔ ہاں اگر ہمارا نام تم نے بتا دیا تو ٹکٹ خرید لیں گے ۔۔۔
اب نا تو ہم کبھی ان خاتون سے ملے تھے اور نا ہی ان کی شکل سے ان کا نام ظاہر ہو رہا تھا ۔۔ بہرحال مس فوڈلز کی ملاقات کسی زمانے میں ان خاتون سے ہوئی تھی اور مس فوڈلز کو نام کا پہلا حرف یاد تھا جو کہ *S* تھا ۔۔ اب سارے زمانے کے نام جو S سے شروع ہوئے ہم نے بول ڈالے مگر خانہ خراب ان میں سے کوئی نام ان کے نام سے نہ ملتا تھا ۔۔۔ مس فوڈلز کو ہمارا مذاق اڑانے کا ٹھیک ٹھاک موقع مل گیا کہنے لگی آپ کی اردو تو N 68 میں بہت مشہور ہے یہاں آکر ایک نام تک نہ پہنچ پائیں ۔۔ یہ دیکھتے ہوئے ان خاتون نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کیا اور ایک اشارہ دیا کہ آپ ڈاکٹر بن جاو گے تو مریض آپ کے پاس آکر کیا لینا چاہے گا ۔۔۔ اسی دوران گامی بھی وہاں پہنچ گیا ۔۔ گامی اور ہم نے جو نام بولے ان کی فہرست کچھ یوں ہے ؛
صحت، سکون ، اطمینان ، ٹریٹمنٹ، دعا ۔۔ اب خود سوچئے ایک ڈاکٹر مریض کو یہی کچھ دے سکتا ہے نا !! بہرحال خاتون کو ہماری باتوں پر اتنی ہنسی آئی کہنے لگی ہمارے بلکل سامنے کھڑے ہو کر یہ ڈرامہ کرو کہ ہمیں مزا آتا ہے ۔۔ اور ہم یوں تھے کہ کوئی نام ٹپک پڑے جو ان کا ہو ۔۔۔ اور عین اسی وقت ہمارے منہ سے نکلا شفا اور وہی ان کا نام تھا ۔۔ اب ہم مس فوڈلز کو ایسے دیکھ رہے تھے کہ دیکھیں جناب ہماری اردو کا کمال ۔۔۔ بہرحال اس بحث کے نتیجے میں ہم کچھ کمانے کے قابل ہو ہی گئے مگر رقم نہیں بتائیں گے۔۔ وجہ یہ ہے کہ بزنس کا اصول اول یہ ہے کہ اپنا منہ بند رکھا جائے
بس اب ہم نے سوچا کہ گھر تشریف لے جایا جائے کہیں آندھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑ جائے ۔۔ ہم تینوں نے دوڑ لگائی ہی تھی کہ سامنے سے ہماری مخالف ٹیم کاوو گرل کا نمائندہ دکھائی دیا ۔۔ چونکہ وہ رشتے میں ہمارے بھائی ہیں تو ہم سے پیسے نکلوا کر اور ٹکٹ دیے بغیر ہی رفو چکر ہو گئے ۔۔ مخالف ٹیم اس لیے کہا کیونکہ بزنس کا دوسرا اصول یہ ہے یا تو پارٹنرز ہوتے ہیں یا پھر کچھ نہیں ہوتے ۔۔۔
بہرحال ہمارے مطابق ہمارا یہ دورہ کامیاب رہا ۔۔۔

اب کچھ لوگوں کو ٹکٹ بیچتے یہ کہ کر کہ بھائی آپ خرید لیں آگے سے جواب ملتا کہ بھائی کیوں کر کہا اب تو ہم نہ خریدیں گے ۔۔۔ کچھ کو کہتے کہ *SIR * ٹکٹ خرید لیں تو ساتھ بیٹھے لوگ قہقہ لگاتے کہ یہ *SIR * کہلائے جانے کے قابل نہیں ہے ۔۔ تو وہ جناب غصہ میں آکر کہتے میں آپکا سر لگتا ہوں ۔۔
اور ہمارا حال کچھ یوں ہوتا :
کاش ہمیں ان سب کے نام پیدائش سے ہی آتے ہوتے ۔۔

**رل تا گئے ہیں پر چس بڑی آئی اے ***
ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ ایک بھائی صاحب کہنے لگے میرے دوست کے بیٹے کا عقیقہ ہے تو ٹکٹ لے کر کیا کریں گے ۔۔ ان کے دوست انہی کے ساتھ بیٹھے تھے اور جب ہم نے جاسوسی کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی شادی شدہ نہ ہے ۔۔ محض ٹکٹ نہ خریدنے کا بہانا ۔۔

بہرحال مس فوڈلز کے ساتھ کام کرنے کام مزہ ہی الگ ہوتا ہے کیوں کہ ان کے کئی روپ ہیں اگر ایک روپ کوئی نہ پہچان سکے تو دوسرا روپ پہچان لیتا ہے ۔۔ ویسے تو مس فوڈلز کی تعریف کر کے پاوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے مگر چونکہ مس فوڈلز کو فرضی کردار بنا کر کوئی نئی بات کسی کو سکھا دی جائے تو ہر گز مضائقہ نہ ہوگا۔۔ ۔
مس فوڈلز انتہائی محبت بھرے لہجے میں بات کرتی ہیں کہ آگے سے گاہک بھی یہ کہتے ہیں کہ آپ کو ملکہ وکتوریہ ہونا چاہیے تھا اور ٹکٹ کے پیسے دے دیتے ہیں ۔۔ اور ہر کسی کو ایک لفظ سے مخاطب کرتی ہیں * جان* یہاں وضاحت کرتے چلیں یہ لفظ صرف خواتین کے لیے ہے ۔۔ تو بہت سے لوگوں نے محض یہ کہ کر ٹکٹ خریدے کہ ہم نے میلے پر آنا تو نہیں ہے مگر آپ جان ہو ہماری اس لیے ہم ٹکٹ خرید رہے ہیں ۔۔۔
مس فوڈلز سے بزنس کا ایک اور اصول سیکھنے کو ملا وہ یہ کہ ہر پارٹنر کو ہر بات کا علم ہونا ضروری ہے یوں مشاورت سے کچھ نیا سیکھنے کو بھی ملتا ہے اور نئے آئیڈیاز کو مدنظر رکھ کر بزنس بہتر کیا جا سکتا ہے ۔۔ اتنی گہری بات کر ڈالی مس فوڈلز نے ہمیں یقین نہیں آیا اب تک ۔۔ اس بات کے پیچھے کسی کا ہاتھ تو ضرور ہے مگر ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کچھ سیکھنے کو ملا یہ کافی ہے ۔۔۔

ہم نے سوچا کہ ایک چکر ڈینٹسٹ کے ہسپتال اور کالج کا کیوں نہ لگایا جائے ۔۔ وہاں تو پہنچ کر ہمارے مزے ہوگئے ۔۔ اتنے کھلے دل کے سب سے چھوٹی کلاس کے معصوم بچے ۔۔ پیسوں کو جوش و خروش سے باہر نکالا ۔۔۔ اور جب کچھ بڑی کلاس کے لوگوں کے پاس جا کر ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ ٹکٹ خریدی جائے ہم سے تو جواب ملا کہ ہم نے آنا ہی نہیں ہے تو ہم ٹکٹ کیوں خریدیں ۔۔آگے سے گامی نے کہا آپ بے شک نہ آئیں مگر ٹکٹ تو خرید لیں ۔۔ اب گاہک کے منہ سے ظاہر ہو رہا تھا وہ ہنسنا بھی چاہتا ہے اور رونا بھی کہ بھائی نہ آئیں !!
بہرحال دوسروں کو تنگ کر کے اور خود تنگ ہو کر ہم نے تین دن میں جو کچھ ٹکٹ بیچ کر سیکھا وہ بیان کیا جائے تو سب کو پرستان کا راستہ نظر آنے لگ جائے ۔۔۔ اس لیے
کہانی کو یہیں ختم کرتے ہیں ۔۔۔

ختم کرنے سے پہلے آخری بات جو قابل ذکر ہے ۔۔ ہماری ملاقات نشتر کے ملازمین سے بھی ہوئی ۔۔ جب ہم نے انہیں پیار سے جا کر ٹکٹ پیش کی اور کہا کہ اپنی بیٹیوں کو ضرور لائیے گا ۔۔ تو کہنے لگے ڈاکٹر صاحب ٹکٹ کے پیسے تو بتائیے ۔۔ مس فوڈلز نے کہا ٹکٹ کے بدلے دعا دیجئے!! اس وقت مس فوڈلز پر بہت پیار آیا ہمیں



والسلام!!


P

Comments

  1. Hamaarii sweet sii writer Maria Siddique hamesha Sweet he likhtii hy... Allah Pak tumhain or achy topics par mazeed likhny ki taufeeq day... Ameen...
    Lots of love from my side..💓💓

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

ادھار بند ہے تو جناب!انتظار بھی بند ہے!