پہیا
اہل عقل میں شان بیوقوفی بھی ہو ذرا
اتنی بھی زندگی نہ ہو پابند رسمیات
پہیا گول ہوتا ہے یہ تو آپ سب کو معلوم ہی ہے ۔۔۔ بلکہ پہیا کو پہیا کہا ہی اس کیے جاتا ہے کہ وہ گول ہوتا ہے ۔۔۔۔ !
پہیے سے مختلف جگہوں پر مختلف طریقوں سے کام لیا جاتا ہے ، گو کہ پہیے کی اہمیت گاڑی جیسی اشرف چیز سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے ۔۔۔ کیونکہ گاڑی کا انحصار پہیے پر ہوتا ہے ۔۔۔۔ ایک پہیا لکڑی سے بھی بنایا جاتا ہے اور اسکی یہ قسم کنوئیں میں استعمال ہوتی ہے اور جب کنوئیں پر پہلی نظر پڑتی ہے تو پہیے کو کنوئیں کی باقی اجزا پر ترجیح دیے جانا تو اسکا حق ہے ۔۔۔ بغیر پہیے کے پانی تو نکال کر دکھا دیں کنوئیں سے ، ناممکن ہی نہیں بلکہ کبھی نہ ہونے والا کام ہے ۔۔۔۔
گھڑیوں میں جو گول گول گھومتا ہوا دکھائی دیتا یے وہ بھی پہیا ہوتا ہے ۔۔۔ ہمارے خیال میں پہیے کا ابتدائی تعارف اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔
ابتدائے پہیا یے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا
دراصل پہیے کے ذریعے ہم آپ کی توجہ ایک اہم اور دلچسپ موضوع کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں ۔۔ موضوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایسا مرض ہے جو ہمارے عوام میں سے فقط ایک فیصد لوگوں کو لاحق ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک فیصد میں ہم بھی شامل ہیں ۔۔۔ پہیا واقعی بہت ہی اہم شے ہے مگر اسکا ایک نقصان بھی ہے ۔۔ ایک مرتبہ گھوم جائے تو بریک لگائے بغیر روکنا ناممکن ہے ۔۔۔ روکنے کے لیے بھی ایک شرط ہے آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پہیے کو کہاں، کب اور کس رخ میں موڑنا ہے اور اس کے لیے آپ کو بھول بھلیوں یعنی راستوں سے واقف ہونا ضروری ہے ۔۔ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمیں راستوں کا آج تک نہ پتا چل سکا ہے اور نہ ہی آگے کوئ امید کی جا سکتی ہے ۔۔۔ راستوں سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہمیں ملتان سے لاہور تک کا راستہ نہیں آتا بلکہ ہم تو اس قدر قابل ہیں کہ ہمیں اپنے گھر کا راستہ ہی نہیں آتا ۔۔۔ ہم یہاں بتاتے چلیں ہماری اس میں کوئی غلطی نہ ہے بات دراصل یہ ہے کہ ہماری پیدائش سے اب تک ہمیں نت نئے راستوں سے واقف کرانے کی ناکام کوشش کئی مرتبہ کی جا چکی ہے کہ اب الٹ اثر ہونا شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ہمیں اپنے سکول کے اندر کے ہر کونے کا علم ہوتا تھا ۔۔ آنکھیں بند کر بھی ایک کمرہ جماعت سے دوسرے میں جا سکتے تھے ۔۔ مگر اب تو ہماری مت ہی ماری گئی ہے شاید مس فوڈلز کے ساتھ رہنے کا اثر ہے یہ ۔۔۔ اب نشتر کی لیبارٹریوں میں دو گھنٹے گزارنے کے بعد کبھی کبھار یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت جہاں ہم کھڑے ہیں وہ منزل دوسری ہے یا پہلی ۔۔ یہ منزل نہ تو وہ ہے جہاں آپ پہنچنے کے خواب دیکھتے ہیں اور نہ ہو وہ منزل یے جو آپ نے رٹی ہوتی ہیں کہ قرآن پاک کی 7 منزلیں ہیں ۔۔ بلکہ یہ نشتر کی منزلیں ہیں جن پر سیڑھیاں چڑھ کر اور اتر کر اوپر نیچے آیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ !
یہ نشتر کی ہے کونسی منزل کہ یہاں پر
سب حوصلہ و کمر و پاوں ٹوٹ رہے ہیں
نشتر آئے ہوئے چھ ماہ ہونے کو ہیں مگر اب تک ہمیں یہ نہیں پتا چل سکا کہ آڈیٹوریم پہلے آتا ہے یا ڈائسیکشن ہال ۔۔۔ physio lab پہلے آتی ہے یا BIOCHEM کی لیب ۔۔۔ نشتر پوائنٹ کا دروازہ پہلے آتا ہے یا گول گپوں کی ریڑھی ۔۔۔۔ نشتر اسپتال پہلے آتا ہے یا نشتر یونیورسٹی ۔۔۔۔ گھر پہلے آنا ہوتا ہے یا یونیورسٹی ۔۔۔
ایسے ہی ہمیں 19 سال سے یہ نہیں معلوم ہو سکا ؛
کچہری اور کچہری چوک میں کیا فرق ہے ، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی اور بہاءالدین چوک میں کیا فرق ہے ، نشاط اور نشاط روڈ میں کیا فرق ہے ۔۔۔ ! ہمیں تو سب ایک سا لگتا ہے ۔۔
کبھی اگر کوئی پوچھ لے کی آپ کا گھر کہاں ہے تو ہمارا جواب ہوتا یے چوک شہیداں کا تو آپ کو پتا ہی ہوگا اس سے آگے ہے جبکہ ہمیں خود نہیں معلوم آج تک کے درمیان میں کیا کیا آتا ہے ۔۔۔ ابھی حال کا ایک واقعہ آپ کو سناتے چلتے ہیں ۔۔۔ رکشہ پر سوار بڑے آرام و سکون سے ہم نشتر سے گھر کی طرف رواں دواں تھے کہ راستے میں رکشہ ڈرائیور نے پوچھا مڑنا کس طرف ہے ۔۔ اب ہم سوچ میں پڑ گئے کہ سیدھا جانا ہوتا ہے یا کہیں مڑنا بھی ہوتا ہے ۔۔ مرتے کیا نہ کرتے ہم نے بسم اللہ پڑھا اور بھرپور اعتماد سے کہا کہ سیدھا جانا ہے کہیں نہیں مڑنا ۔۔ بس پھر کیا اب دو راستے بچے تھے ۔۔ گھر پہنچیں گے یا پھر ۔۔۔۔۔۔ !! سمجھ تو گئے ہوں گے آپ ۔۔ خیر !! ہم گھر ہی پہنچے ۔۔۔۔
بہرحال پہیے کا گول ہونا بھی اسی وجہ سے ہے کہ اسکو روکنے کے لیے کچھ عقل مند لوگوں کا ہونا ضروری ہے ۔۔ ایسے ہی یہ دنیا گول ہے جیسا کہ ابن انشا نے بھی اپنی تحریر میں ذکر کیا ہے کہ جہاں سے سفر کی ابتدا کی جائے واپس اسی جگہ ہی پہنچا دیے جاتے ہیں گویا کہ اپنی جگہ سے ہلے ہی نہ ہوں ۔۔۔ دوسرا مطلب تھوڑا سنجیدہ تو ہے مگر رنجیدہ ہرگز نہیں ہے
یہ دنیا گول ہونے کی وجہ سے سادہ انسانوں کو گھماتی ہے پھرکی کی طرح ۔۔۔ زندہ رہنے کے لیے کچھ اصول اور ضابطوں کا سیکھنا انتہائی اہم ہے ۔۔۔۔ !! بات تو وہی ہے ، بھول بھلیوں سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرنا ۔۔۔

Comments
Post a Comment