ادھار بند ہے تو جناب!انتظار بھی بند ہے!

ادھار بند ہے تو جناب! انتظار بھی بند ہے!!!

ادھار ایک جان لیوا لفظ ہے کئی ہزار لوگوں کے لیے ،مگر ہمارے لیے یہ لفظ باعث مسرت ہے !  خاص طور پر کینٹین کے باہر جب لکھا ہوا پاتے ہیں کہ* ادھار بند ہے * تو ایک بات بتائیں آپکو ؟؟ سکون مل جاتا ہے کہ ادھار بند ہے ورنہ ہماری جان عزیز مس فوڈلز نے تو ہماری جیب خالی ہوتے ہوئے بھی کہنا تھا بھائی صاحب! ادھار پر دے دیں ان سے لے لیجیئے گا ۔۔۔ ہائے !! کیا کریں، کبھی کبھار قسمت ہمارا ساتھ دیتی ہے اور کچھ ایسا دیتی ہے کہ رشک آتا ہے ۔۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے خود پر رشک آتا ہے! نہ بھئی نہ ، ابھی وہ وقت بہت دور  ہے جب ہم کہیں گے کہ ہمیں خود پر  رشک ہے ۔۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب مس فوڈلز اور اس کے عجیب و غریب نام نہاد دوست گامی سے ہماری جان چھوٹے ! الغرض رشک ہمیں اس قسمت پر آتا ہے جو بیچاری سوچتی ہوگی :
*میں کتھا پھنس گئی*       
بہرحال یہ سب تو ٹھہرا مذاق اور ہم پر امید ہیں کہ آپ لطف  اندوز ہو رہے ہوں گے ! تو آگے چلئیے نا !!

 مگر ہم شدید ناامید اس وقت ہوئے  جب کسی دکان چاہے وہ جوتی کی ہو ، کپڑوں کی ہو ، چوڑیوں کی ہو ، دوپٹہ پیکو کروانے کی ہو ، کھانے پینے کی اشیا کی ہو ، لیس اور موتیوں کی ہو ، باہر لکھا ہونے کے باوجود کہ ادھار بند ہے اپنے محبوب کو ادھار  دیتے  ہوئے پایا  اور ادھار بھی ایسا جو واپس نہ کیا جائے کبھی !!! دل کڑھتا ہے ، یقین کریں بہت زیادہ ! بھلا جب ہم کسی کے محبوب نہ ہوں تو ہم کیا کریں! آخر ہماری کیا غلطی ہے اس  میں ۔ تو گامی صاحب اپنا فلسفہ جھاڑے بغیر ہی پوری داستان سنا دیتے ہیں صرف دو الفاظ کے ذریعے * انتظار کیجیئے *

خیر موضوع پر آتے ہیں تو ہم بھی اسی حق میں ہیں ادھار بند ہو مگر ! ساتھ ہی انتظار بھی بند ہو ۔۔
اب خود ملاحظہ فرمائیں! جو ہر اسٹیج/امتحان سے  پہلے والی ایک رات ہوتی ہے وہ کتنی جان لیوا ہوتی ہے ، بس انتظار ہوتا ہے کہ کسی طرح گزر جائے ۔۔ پاس ہوں یا فیل، مریں یا جئیں بس یہ رات گزر جائے ۔۔۔ !

انتظار جان لیوا شے ہے !اس کا اندازہ ہمیں شدت سے تب ہوتا ہے جب ہم اپنے رکشے والے انکل کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں! بس دل کرتا ہے کہ ہمارے ہاتھ میں تلوار نہ آئے کبھی ورنہ یا تو یہ رکشہ ہوگا یا ہم!!! کیا کریں اسکا کوئی حل کسی بھی ہم جیسی رکشہ سوار بہن کے پاس نہیں ہے ۔۔ اگر ہم کہہ بھی دیں کہ چھٹی 1 بجے نہیں بلکہ 12:30 پر ہے تو یقین کریں باقی دنیا جہاں کی کوئی خبر ہو نہ ہو ، معلوم نہیں کون سی خلائی مخلوق ہے جو رابطہ کرتی ہے ان رکشہ ڈرائیور سے کہ 1 بجے ہی چھٹی ہے ! جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے ڈرائیور صاحب ہم سے بدلہ لینے کی غرض سے 1:30 پر پہنچتے ہیں!

ہم نے اکثر نشتر کی راہوں میں
رک کر رکشہ کا انتظار کیا !

مگر کیا کریں ہم بھی ٹھرے کوئی انتہائی ڈھیٹ قسم کے رکشہ سوار ۔۔
 کرتے کچھ یوں ہیں کہ خود ہی رکشہ پکڑ کر گھر رواں دواں ہو جاتے ہیں جسکے نتیجے میں خوار ہونا پڑتا ہے رکشہ ڈرائیور کو کہ :
بچی گم ہو گئی ہے ! واہ رے واہ ! کیا کہنے مس فوڈلز کے جو ہمیں ایسے بیش قیمت مشوروں سے نوازتی ہیں!!

اور وہ جو رزلٹ آنے سے 10 سیکنڈ پہلے کا انتظار ہوتا ہے کوئی،  واقعی مار ڈالتا ہے ۔۔ !
اور وہ انتظار جب مس فوڈلز کا viva  ہو  جائے  ،  استاد صاحب کے روم کے باہر کوئی ایسے چکر لگاتے پھرتے ہیں کہ جیسے ہم مستقبل کا پتہ لگانے کے ماہر ہوں اور ہمیں چکر  لگانے سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ استاد صاحب نے کیا سننا ہے ! آیا کہ ہم زندہ رہیں گے یا ہم وہیں b.p low ہونے کے باعث ڈھیر ہو جائیں گے !! کچھ نہیں ہوتا بھائی یہ چکر لگانے سے ! آرام سے بیٹھ کر انتظار کیا کریں وہ کم خوفناک ہوتا ہے ۔۔ا

اور وہ انتظار جب OSPE کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ اسٹوڈنٹس جا رہے ہیں وہ بھی دانت نکالتے ہوئے تو ہمیں شک نہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے یا تو اسے آتا نہیں ہوگا یا بہت آتا ہوگا اور پھر اپنی باری کا انتظار ۔۔! آپ اندازہ نہیں کر سکتے کس قدر مشکل ہے یہ میڈیکل اسٹوڈنٹس کے لیے کہ جا کر مردوں(ڈیڈ باڈیز) پر لگے نشانات کو ڈھونڈ کر اس ایک muscle , artery, nerve کا نام لکھنا اور پھر ہنستے ہوئے باہر  نکلنا  !! آہ! اور اس سے پہلے کا انتظار ، جان لیوا ہے !
اور وہ لیکچر کے ختم ہونے کا انتظار اور اپنے پسندیدہ ٹیچر کے لیکچر کا انتظار!
مس فوڈلز اور گامی کی فلسفی باتوں کے ختم ہونے کا انتظار جو کہ ہمیں شدت سے ہوتا ہے ! ہم تو تقریبا روزانہ ان دونوں سے ملاقات کرتے ہیں کبھی آپ بھی ملییے جناب پھر ایک ہی انتظار کریں گے آپ، وہ ہے موت کے فرشتے کا انتظار!
ایسے ہی ہسپتال کے I.C.U کے باہر ، ٹہلتے ہوئے کسی دردناک خبر کا انتظار!!
اور جب انجیکشن لگتے ہوئے جو درد ہوتا ہے ، اس کے لگنے سے پہلے اس درد کو محسوس کرنا اور پھر وہ 1 منٹ کا انتظار!!
تو اس انجیکشن کے انتظار کے موقع پر گامی کا  شعر   ملاحظہ فرمائیں، جو یقینا شعر کم ہی ہے بس درد زیادہ ہے:

درد جو نہ کبھی ہوا ،تب ہوا جب محبوب جدا ہوا
زخم جو نہ کبھی لگا،  تب لگا جب  انجیکشن لگا

ایسے ہی شدید بھوک کے وقت ، کھانے کا انتظار!

 اور  ایک خاص چیز کا انتظار، کہ کوئی پیار سے بولے ، آخر وجہ کیا ہے ! مسئلہ کیا ہے ، ہاں بتاو! رات کو کس کے کنڈیکٹر لگے ہو ! سوتے کیوں نہیں ہو !

اور انتظار اس رب سے ملنے کا ، جو بہت شدید ہے ، ان الفاظ کا انتظار؛
*فادخلی فی عبادی ۔ وادخلی جنتی*

اس زندگی کا انتظار  جو ہمیشہ کی ہوگی ! جان لیوا ہے ! انتظار جان لیوا ہے !!!

والسلام!

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog